18 اکتوبر 2014 - 12:30
آیت اللہ نمر کے لیے سزائے موت کے حکم کی مذمت میں

اس بیان میں اس غیر انسانی اور غیر اسلامی عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے علمائے اعلام اور مراجع عظام نیز انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی اداروں، سیاستدانوں اور انصاف پسند شخصیتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہر ممکنہ راستے سے اس حکم کو کالعدم قرار دلاتے ہوئے آیت اللہ نمر کو پھانسی لگائے جانے سے بچایا جائے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ ابنا۔ سعودی عرب کے بزرگ اور برجستہ عالم دین آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کے لیے سعودی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے سزائے موت کے حکم کی مذمت کرتے ہوئے اہل بیت(ع) عالمی اسملی نے ایک بیان جاری کیا ہے۔
اس بیان میں اس غیر انسانی اور غیر اسلامی عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے علمائے اعلام اور مراجع عظام نیز انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی اداروں، سیاستدانوں اور انصاف پسند شخصیتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہر ممکنہ راستے سے اس حکم کو کالعدم قرار دلاتے ہوئے آیت اللہ نمر کو پھانسی لگائے جانے سے بچایا جائے۔
بیان کا مکمل ترجمہ
بسم الله الرحمن الرحیم
قال الله الحكيم في محكم كتابه المبين: "وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُون". وقال: "وَقَالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُم".
انتہائی حیرت اور تعجب کے ساتھ سعودی حکومت کی عدالت نے اس ملک کے برجستہ عالم دین علامہ شیخ نمر باقر النمر کو سزائے موت دئے جانے کے سلسلے میں ظلم اور بے انصافی پر مبنی حکم صادر کر دیا وہ بھی ایسے حال میں کہ ۲۰۱۲ کو سعودی مزدوروں نے انہیں گولی کا نشانہ بنا کر گرفتار کر لیا گیا اور تاھم وہ آل سعود کی جیل میں بند ہیں۔
سزائے موت پر مبنی یہ حکم مکمل طور پر ایک سیاسی، حقیقت سے عاری اور چھوٹے الزامات کی روشنی میں دیا گیا ہے جبکہ ان پر لگائے گئے الزامات ثابت نہیں ہوئے اور شیخ نمر اور ان کے وکیل نے قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی بین الاقوامی سطح پر ایک عوامی ادارہ ہونے کی حیثیت سے اس ظالمانہ حکم کے صادر کئے جانے کی سختی سے مذمت کرتی ہے اور ٹھوس طریقے سے عالمی عدالت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس حکم کو کالعدم قرار دیا جائے۔
اسمبلی ان تمام شخصیتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جنہوں نے اس سے پہلے شیخ نمر کا دفاع کیا، علمائے اعلام، مراجع عظام نیز انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی اداروں، سیاستدانوں، انصاف پسند شخصیتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس ظالمانہ اور انسانیت مخالف حکم کی مذمت کرتے ہوئے مظلوم کی حمایت میں آواز بلند کریں اور اپنے اخلاقی اور شرعی وظائف پر عمل کرتے ہوئے ہر ممکنہ طریقےسے اس حکم کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کریں نیز اس ملک کے دیگر دسیوں جوانوں اور نوجوانوں کے لیے سزائے موت کے حکم کی بھی سختی سے مخالفت کریں جو غیر منطقی ہے اور منفی نتائج کا پیش خمیہ ہے۔
آخر میں ہم انسانی وظائف، عدالت کی برقراری اور انسانی حقوق کی پابندی کے پیش نظر سعودی حکام اور اس ملک کی عدالت عالیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عقل و شریعت کی پیروی کرتے ہوئے اپنے ملک کے تمام باشندوں کی ساتھ عدل و انصاف سے پیش آئیں اور امتیازی سلوک سے دستبردار ہوتے ہوئے جیلوں میں بند مظلوم جوانوں کو رہائی دیں تاکہ اس ملک کے تمام باشندوں کے درمیان قومی اور دینی مساوات قائم ہو۔
"إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِين".
والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
۲۱ ذی الحجۃ ۱۴۳۵

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲